ریاست اور سیاست

مرکز اور پنجاب میں ان ہاوس تبدیلی کیلئے پیپلزپارٹی ایک مرتبہ پھر سرگرم

( رضا ہاشمی ) مرکز اور پنجاب میں پی ٹی آئی کی جگہ ان ہاوس تبدیلی کے ساتھ نئی حکومتوں کے قیام کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی ایک مرتبہ پھر سرگرم ہو گئی ہے اور اس نے ن لیگ سمیت اپوزیشن کی تمام پارلیمانی جماعتوں سے رابطے شروع کر دئیے ہیں۔

ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن اور مولانا فضل الرحمان کو قائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ پہلے حکومت کوگھر بھیجا جائے اور بعدازاں 2022 میں عام انتخابات کا اعلان کیا جائے۔ پیپلز پارٹی ذرائع کے مطابق ان ہاؤس تبدیلی میں حکومت کی اتحادی جماعتیں  بھی ساتھ دیں گی۔ مرکز اور پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی لاکر ایک سال کیلئے مشترکہ حکومت بنائیں اور اسی ایک سال کے دوران انتخابی اصلاحات کی جائیں۔

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن اور نواز شریف کو پیپلز پارٹی کی اس پیشکش پر قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جبکہ شہباز شریف، اختر مینگل اور مولانا عبدالغفور حیدری سمیت متعدد سیاستدان پیشکش پر راضی ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماوں کے ایک وفد نے جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے تازہ رابطہ کر کے حکومت کو گھر بجھوانے پر باہمی تعاون پر زور دیا ہے ۔ پی ڈی ایم اور ن لیگ کے ساتھ رابطوں کی یہ خبریں پنجاب اور مرکز کے ایوانوں میں عام ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ جوڑ توڑ کے بادشاہ آصف علی زرداری اس امر پر تو پہلے بھی راضی تھے کہ تینوں جماعتیں ملکر تحریک انصاف کو گھر بھجواتی ہین تو حکومت پیپلز پارٹی کے حصہ میں آنا چاہیئے لیکن ن لیگ کے قائد محمد نواز شریف ایسی امداد کے لئے تیار نہ تھے اور حکومت کو بھیجنے کے بعد عام انتخابات کے انعقاد انکی ترجیح تھی۔ تاہم اب دوبارہ رابطے شروع ہو چکے ہین اس ضمن میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما راجا پرویز اشرف نے بھی گزشتہ روز بیان دیا تھا کہ پیپلز پارٹی پی دی ایم سے الگ نہیں ہونا چاہتی تھی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button