ریاست اور سیاستتجزیہ

سینئر تجزیہ کار میاں طاہر نے کہا کہ سفارتی خط کی حقیقت بتا دی

( مانیٹرنگ ڈیسک ) سینئر تجزیہ کار میاں طاہر نے کہا کہ سفارتی خط اصلی نہیں، ری رائٹ ہوا، جعلی سازی کی گئی ،ساراکام جس ایک ڈاکیومنٹ کی بنیاد پر کیاجارہا ہے وہ اوریجنل ڈاکیومنٹ نہیں ہے، ایک بیانیہ بنانے کیلئے ایک دستاویز تیار کیاگیا ہے تو اب کہانی یہ بنے گی کہ یہ اصلی ہے یا نقلی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور 42 نیوز کے پروگرام ریاست کی سیاست میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ دوسری جانب جب اس بارے میں حکومتی سفارتی حلقوں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا ہو نہیں سکتا، ہم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ خط نہیں ہے بلکہ ایک کیبل ہے اب جو تازہ ترین میری انفارمیشن ہے وہ یہ ہے کہ یہ اوریجنل چیز نہیں ہے وہ جس پاکستانی ڈپلومیٹ نے جو چیز یہاں پر بھیجی تھی یہ دراصل وہ نہیں ہے یہ وہ متن نہیں ہے اور یہ منسٹری آف فارن افیئرز کے اندر اس کو دوبارہ کچھ لوگوں نے اس کو ری رائٹ کیا ہے اس میں کچھ چیزیں ایڈ کی ہیں جو کہ اوریجنل کیبل آئی تھی اس میں نہیں تھیں اور اس میں فورجری کا عنصر بھی شامل ہے اور اسی لئے کل بھی مجھے جو دوسرے سورسز تھے جنہوں نے کہ یہ ہمیں بتایا تھا کہ اس کی تحقیقات کی گئی ہیں وزیراعظم عمران خان کے کہنے پر ہم نے اسکی تحقیقات کی ہیں اور ہمیں اس بارے میں کچھ پتا نہیں چلا اب ان سورسز کی وہ کل کی خبرجو ہے وہ پیچھے رہ گئی ہے اب منسٹری آف فارن افیئرز کے اندر سے ہمیں جو پتا چلا ہے وہ یہ ہے کہ یہ لیٹر جو ہے عمران خان جس کو ابھی تک وہ اپنے ساتھیوں کو بتارہے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button