ریاست اور سیاستافسر اور دفتر

خبردار!ہمارے ادارے کے سربراہ کو نشانہ بنایا تو ایکشن لینگے، خواجہ آصف

( رضا ہاشمی )وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ کینیڈا کے ممبر پارلیمان نے پاکستان آرمی کو تنقید کا نشانہ بنایا، اگر ہمارے ادارے کے سربراہ کو نشانہ بنایا گیا تو ایکشن نظر آئے گا۔

پارلیمنٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہم ہر ملک کی پارلیمان کا احترام کرتے ہیں، کینیڈا کے ساتھ پاکستان کے اچھے تعلقات ہیں، لیکن اگر کینیڈین پارلیمان ممبران ہماری ریاست کواٹیک کریں گے تو جواب دینا بنتا ہے۔

وزیر دفاع نے بتایا کہ ہمارے آرمی چیف کا کینیڈا کا دورہ شیڈول تھا، لیکن کینیڈا کے ممبر پارلیمان ٹوم نے پاکستان آرمی کو تنقید کا نشانہ بنایا، اور کہا کہ ہماری افواج کی وجہ سے عمران خان اقتدار سے محروم ہوا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کینیڈا کی حکومت کو اپنے ممبر پارلیمان کے بیان کا نوٹس لینا چاہیے تھا، ہوسکتا ہے ہمارے ملک میں جمہوریت پرفیکٹ نہ ہو، لیکن یہاں حکومت آئینی طریقے سے تبدیل ہوئی ہے، اگر ہمارے ادارے کے سربراہ کو ڈریگ کیا جائے گا تو ایکشن نظر آئے گا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ دنیا کے جن ممالک میں اسلامو فوبیا پایا جاتا ہے کینیڈا ان میں سرفہرست ہے، کینیڈا میں بھی مسلمانوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ اپنایا جاتا ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں جن کا ہمیں علم ہے۔

وزیردفاع نے کہا کہ کینیڈا سمیت مغربی ممالک میں مسلمانوں کوٹارگٹ کرنے کا رواج بن گیا ہے، مغربی ممالک کو روہنگیا میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نظر نہیں آتی، ان کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کیوں نظر نہیں آتے، مسلمانوں کا معاملہ آتا ہے توعالمی ضمیر سویا ہوا ہوتا ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے بیرونی مداخلت کی مہم چلائی ہوئی ہے، پچھلی حکومت نے پاکستان میں عوام کو تقسیم کیا، اور عمران خان نے پاکستان اور ملک سے باہر بھی پاکستانیوں کا کلچر تباہ کردیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان نفرتوں کا سوداگر ہے، پاکستان کے تمام اداروں کو اس نے اپنے مخالفین کیخلاف استعمال کیا، یہاں لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جنہوں نے جیلیں کاٹی ہیں، اختلافات کے باوجود ہمارے اخلاقی تعلقات کبھی خراب نہیں ہوئے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ہم نے جنگ کی ایک قیمت ادا کی ہےاور آج بھی ادا کررہےہیں، وہ ہماری جنگ نہیں تھی، جن ممالک میں اسلامو فوبیا ہےان کی جنگ تھی، نائن الیون میں کوئی پاکستانی اورافغانی شامل نہیں تھا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button