تھانہ کچہریصحافت اور صحافی

ارشد شریف کی والدہ کا سپریم کورٹ آف پاکستان کے انسانی حقوق سیل کو خط

(سفیان سعید خان)مقتول سینئر صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف کی والدہ نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے انسانی حقوق سیل کو خط لکھ دیا۔

ارشد شریف کی والدہ نے خط میں بیٹے کے قتل کی تحقیقات سے متعلق اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔

انہوں نے خط میں کہا کہ گھریلو خاتوں ہوں، ارشد شریف کے قتل کی کسی بھی تحقیقات سے لاعلم ہوں۔

والدہ نے خط میں یہ بھی کہا کہ ریاست کی ذمے داری ہے وہ ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقات مکمل کرے اور گواہان کو پیش کرے۔

ارشد شریف کی والدہ نے بیٹے کے قتل کی تحقیقات اور گواہان پیش کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے خط کا جواب دیا ہے۔

دوسری جانب سینئر صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف قتل کیس کے اہم کردار وقار نے کینیڈین ہائی کمیشن سے رابطہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وقار نے اپنی سلامتی سے متعلق خدشات کے بعد کینیڈین ہائی کمیشن سے رابطہ کیا اور استدعا کی کہ ارشد شریف کے قتل کے بعد جان کو خطرہ ہے، مجھے تحفظ کی ضرورت ہے۔

کینیڈین سفارتی حکام نے وقار کو جواب دیا کہ ہم ذاتی حیثیت میں تحفظ فراہم نہیں کرسکتے، تاہم وقار کینیڈا کے تمام شہریوں کو حاصل سہولتوں کے حقدار ہیں۔

وقار اور خرم کے وکیل نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ میرے موکل خوفزدہ ہیں، ان کی جان کو خطرہ ہے،

انہوں نے مزید کہا کہ ارشد شریف کے قتل کے وقت خرم احمد وہ گاڑی چلا رہے تھے، جس پر پولیس نے گولیاں برسائیں تھی۔

ذرائع کے مطابق وقار احمد کینیڈا کی شہریت رکھتا ہے جبکہ خرم احمد نیروبی میں کام کرتا ہے اور وہیں رہتا ہے۔

ذرائع کے مطابق وقار احمد کے ایک اور بھائی کے پاس بھی کینیڈا کی شہریت ہے، وہ بھی وہیں رہتا ہے، وقار احمد، خرم اور جمشید خان ایموڈمپ کے بزنس پارٹنر ہیں۔

ارشد شریف قتل کیس کی تفتیش میں وقار احمد اور خرم احمد مرکزی کردار ہیں۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے 2 صفحات پر ارشد شریف کے اسکیچ ہیں، اسکیچز میں ارشد شریف کو لگنے والے زخموں کی تفصیل کے ساتھ نشاندہی کی گئی ہے۔

اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ ہائی پروفائل کیس ہونے کے باعث پوسٹ مارٹم رپورٹ تحریر کرنے کو ترجیح دی، ٹائپنگ میں رپورٹ کی تبدیلی کے خدشات تھے۔

ارشد شریف کی پوسٹ مارٹم رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ کو جمع کروا دی گئی ہے، پوسٹ مارٹم رپورٹ ارشد شریف کی والدہ اور دونوں بیویوں کو دے دی گئی۔

اس کے علاوہ ارشد شریف کی پوسٹ مارٹم رپورٹ اٹارنی جنرل کو بھی دے دی گئی ہے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کی موت زخم آنے کے 10 سے 30 منٹ کے درمیان ہوئی، ان کی موت دماغ اور دائیں پھیپھڑے متاثر ہونے سے ہوئی، ان کی لاش پر 12 زخم پائے گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کی بائیں آنکھ کے گرد سیاہ نشان تھا، ان کی گردن کے بائیں جانب زخم موجود تھا، ان کی کمر کے بالائی حصے پر زخم کا نشان پایا گیا، کمر پر موجود زخم کے گرد سیاہ نشان موجود تھا۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کے دائیں ہاتھ کے چار ناخن موجود نہیں تھے، ان کی دائیں کلائی پر رگڑ کا نشان موجود تھا، ان کی کھوپڑی کی بائیں جانب کی ہڈی غائب تھی، ارشد شریف کے دماغ کے بائیں جانب کا حصہ متاثر ہوا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button