فن و فنکار

سدھو موسے والا قتل کے بعد کی پیش رفت ، تہلکہ خیز انکشافات

( مانیٹرنگ ڈیسک )  سدھو موسے والا کے قتل سے چند گھنٹے قبل ان کے کنسرٹ کی ٹکٹوں کی فروخت روک دی گئی تھی، تہلکہ خیز دعویٰ سامنے آیاہے کہ ان کے کینیڈا میں ہونے والے کنسرٹ کی ٹکٹوں کی فروخت ان کے قتل سے چند گھنٹے قبل سیکیورٹی خدشات کی بنا پر روک دی گئی تھی۔

کینیڈا سے شائع ہونے والے وینکوور سن نے لکھا ہے کہ سدھو موسے والا نے کینیڈا کے شہر وینکوور  کے پیسیفک نیشنل ایگزیبیشن  (پی این ای) میں  کنسرٹ کرنا تھا۔  سدھو کا یہ کنسرٹ 23 جولائی کو ہونا تھا تاہم پولیس نے سیکیورٹی خدشات ظاہر کیے تھے۔

پی این ای کی ترجمان لورا بیلنس کے مطابق کنسرٹ سے پہلے وہ شرکا کی ہر طرح کی سیکیورٹی یقینی بنانا چاہتے تھے ، یہ ہمارا پروٹوکول ہے کہ جو بھی بڑا ایونٹ ہوتا ہے اس کی سیکیورٹی  کا انتظام پولیس کی مشاورت سے  کیا جاتا ہے۔  سدھو موسے والا کے کنسرٹ میں 12 ہزار سے زائد افراد کی شرکت کا امکان تھا۔

بھارتی گلوکار سدھو موسے والا کے قتل کی ذمہ داری لارنس بشنوئی گینگ نے قبول کرلی۔

پنجاب پولیس کے چیف وی کے بھاوڑا نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سدھو موسے والا کا قتل گزشتہ برس اگست میں اکالی دل کے یوتھ لیڈر وکی مدھوکھیڑا کے قتل کا ردِ عمل ہوسکتا ہے۔ وکی کے قتل کی سازش میں شگن پریت کا نام آیا تھا جو کہ سدھو موسے والا کے منیجر کے طور پر کام کرتا رہا ہے اور اب آسٹریلیا فرار ہوچکا ہے۔

پولیس چیف نے اس بات کی تصدیق کی کہ موسے والا عمومی طور پر اپنی بلٹ پروف فارچونر میں سفر کرتے ہیں لیکن آج وہ نان بلٹ پروف جیپ میں موجود تھے جس کا حملہ آوروں نے فائدہ اٹھایا۔

خیال رہے کہ پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کو ضلع مانسا کے گاؤں جواہر کے میں قتل کیا گیا ہے، گزشتہ روز پنجاب کی ریاستی حکومت نے ان سمیت 420 افراد کی سیکیورٹی ہٹائی تھی۔ سدھو موسے والا پر 30 گولیاں چلائی گئیں جس کے نتیجے میں ان کے ساتھ موجود دیگر دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ فائرنگ کے بعد سدھو کو فوری طور پر مانسا کے سول ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ چکے تھے۔

 29 سالہ گلوکار نے حالیہ ریاستی انتخابات میں کانگریس کے ٹکٹ پر مانسا کی نشست سے الیکشن لڑا تھا تاہم وہ  عام آدمی پارٹی کے ایک ایسے شخص سے الیکشن ہار گئے تھے جس کو کچھ روز پہلے ان کی اپنی ہی پارٹی نے کرپشن کے الزامات پر کابینہ سے بے دخل کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button