تجزیہ

کیا بھارت سندھ طاس منصوبہ یکطرفہ طور پر ختم کر سکتا ہے؟

( شیتل ملک ) بھارت اور پاکستان کے درمیان سندھ طاس معاہدہ کے تحت ضروری قرار دیے گئے مستقل انڈس کمیشن (پی آئی سی) کا اجلاس گزشتہ ہفتے دہلی میں ہوا جس میں پاکستان اور بھارت کے انڈس واٹر کمشنرز نے شرکت کی۔ تقریباً 62 سال کے دوران انڈس کمیشن کا یہ 118 واں اجلاس تھا۔ اس سے قبل یہ ملاقات مارچ 2022 کو اسلام آباد میں ہوئی تھی۔

Indus treaty file photo
سندھ طاس منصوبہ فائل فوٹو

بھارت اور پاکستان کے نمائندوں کے درمیان کئی سال تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد ستمبر 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان سندھ طاس معاہدے پر دستخط ہوئے۔

اس وقت ہندوستان کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو اور پاکستان کے اس وقت کے رہنما جنرل ایوب خان نے کراچی میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

توقع تھی کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے کسانوں میں خوشحالی لائے گا اور امن، سلامتی اور دوستی کا باعث بنے گا۔

saif ul dine soz former water minister India
بھارت کے آبی وسائل کے سابق وزیر سیف الدین سوز

کئی جنگوں، اختلافات اور جھگڑوں کے باوجود دریاؤں کو تقسیم کرنے کا یہ معاہدہ 62 سال سے برقرار ہے۔ بھارت کے آبی وسائل کے سابق وزیر سیف الدین سوز کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے تمام معاہدوں میں یہ سب سے کامیاب اور موثر معاہدہ ہے۔

سندھ طاس معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں یعنی جہلم، سندھ اور چناب کا کنٹرول پاکستان کو دے دیا گیا ہے۔ اس کے تحت ان دریاؤں کے پانی کے اسی فیصد پانی پر پاکستان کا حق ہے۔

بھارت کو ان دریاؤں کے بہتے پانی سے بجلی پیدا کرنے کا حق ہے لیکن اسے پانی روکنے یا دریاؤں کا رخ تبدیل کرنے کا حق نہیں ہے۔ مشرقی دریاؤں یعنی راوی، ستلج اور بیاس کا کنٹرول بھارت کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے۔ ان دریاؤں پر منصوبے بنانے کا حق بھارت کو ہے جس کی پاکستان مخالفت نہیں کر سکتا۔

اس کمیشن کے ارکان باری باری ایک بار ہندوستان اور ایک بار پاکستان میں ملتے ہیں۔ ان اجلاسوں میں حکومت کے نمائندوں کے علاوہ انجینئرز اور تکنیکی ماہرین بھی شرکت کرتے ہیں۔ یہ ملاقاتیں بہت اہم ہیں۔ ان ملاقاتوں میں وہ سیلاب کے اعدادوشمار، پروجیکٹ کی تفصیلات، پانی کے بہاؤ اور بارش کی صورتحال جیسے اہم موضوعات پر بات چیت کرتے ہیں۔

Gargi Parasai indian journalist
گارگی پارسائی بھارتی صحافی

گارگی پارسائی ایک ہندوستانی صحافی ہیں اور وہ کئی سال سے سندھ طاس معاہدہ کے اجلاس دیکھ رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، "ان میٹنگز میں انجینئرز اور تکنیکی ماہرین شریک ہوتے ہیں۔ متنازعہ سکیموں اور مسائل پر تکنیکی سطح پر بات کی جاتی ہے۔ اگر تکنیکی سطح پر کوئی بات نہیں ہوتی اور ہر معاملے میں حکومت سے رابطہ کیا جاتا ہے، تو بہت سے معاملات کو سیاسی رنگ دیا جاتا ہے۔ لے جائیں گے۔”

اس معاہدے میں مشکلات اس وقت شروع ہوئیں جب بھارت نے مغربی دریاؤں پر پن بجلی کے منصوبوں کی تعمیر شروع کی۔ پاکستان کو خدشہ تھا کہ ان منصوبوں سے پاکستان میں پانی کا بہاؤ کم ہو جائے گا۔

دونوں ممالک کے ماہرین نے 1978 میں سلال ڈیم کے تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کیا، پھر بگلیہار ڈیم کا مسئلہ آیا۔ یہ 2007 میں عالمی بینک کے غیر جانبدار ثالث کی مدد سے طے پایا تھا۔

کشن گنگا منصوبہ بھی ایک متنازعہ منصوبہ تھا۔ یہ معاملہ بین الاقوامی ثالثی کی عدالت تک پہنچا جس کا فیصلہ 2013 میں ہوا۔انڈس کمیشن کے اجلاسوں نے ان تنازعات کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کی طرف سے ان منصوبوں کی کچھ مخالفت جائز ہے اور کچھ میں وہ صرف اپنے حقوق پر اعتراض کرتے ہیں۔

بدلتی ہوئی آب و ہوا اور دونوں ملکوں کے درمیان جاری کشیدہ تعلقات کے دوران دونوں ملکوں میں ‘آبی قوم پرستی’ کو ہوا ملی ہے۔ پاکستان میں بہت سے قوم پرست گروپ بھارت پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ دریائے سندھ کے بہاؤ کو کم کر کے پاکستان میں خشک سالی لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارت میں ایسی آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ سندھ طاس معاہدے میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

گارگی پارسائی کہتے ہیں، ’’بہت سے لوگ جو گہرائی سے نہیں جانتے، سمجھتے ہیں کہ ان دریاؤں کا 80 فیصد پانی پاکستان کو جاتا ہے، اس لیے یہ معاہدہ بھارت کے حق میں نہیں ہے اور اسے منسوخ کر دینا چاہیے یا پھر کوئی نیا سمجھوتہ ہونا چاہیے۔ "

وہ کہتی ہیں، "یہ معاہدہ بہت احتیاط سے کیا گیا تھا۔ دریاؤں کی تقسیم، ان کی ہائیڈرولوجی، ان کے بہاؤ، وہ کہاں جا رہے ہیں، ان میں کتنا پانی ہے۔ یہ معاہدہ ان تمام چیزوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ ہم اس کا رخ نہیں موڑ سکتے۔ اگر ہم چاہیں تو دریا پاکستان میں بہتے ہیں، کیونکہ وہ اتریں گے (پاکستان میں) اس لیے ایسی چیزیں ماہرین پر چھوڑ دی جائیں۔

جنوبی ایشیا میں دریائی تنازعات پر ایک کتاب کے مصنف اور سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی کے پروفیسر امیت رنجن نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے سے دستبردار ہونا چاہتا ہے تو وہ ایسا نہیں کر سکتا۔

Dr Amit Ranjan
پروفیسر امیت رنجن

ان کا کہنا ہے کہ ویانا کنونشن کے تحت معاہدے کو ختم کرنے یا اس سے دستبرداری کی گنجائش موجود ہے تاہم اس پہلو کا سندھ طاس معاہدے پر اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے لکھا، "اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان سفارتی اور قونصلر تعلقات ٹوٹ بھی جائیں تب بھی یہ معاہدہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔ چاہے یہ معاہدہ کسی بھی طرح ٹوٹ جائے، ایسے بین الاقوامی کنونشن، قواعد و ضوابط ہیں جو دریائی ممالک کے آبی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ "

پروفیسر امیت لکھتے ہیں، "دستاویز کے طور پر، اس معاہدے میں کچھ خامیاں ہوسکتی ہیں۔ لیکن یہ مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تناؤ اور کشیدہ تعلقات کا ہے۔

آبی وسائل کے سابق وزیر سیف الدین سوز کا کہنا ہے کہ انڈس کمیشن کے اجلاس انتہائی پیشہ ورانہ اور ایماندارانہ ماحول میں ہوتے ہیں۔

Indus treaty formula
سندھ طاس منصوبہ کے تحت پانی کی تقسیم کا فارمولہ

"اس میٹنگ میں شامل ماہرین پانی اور ٹیکنالوجی کی دنیا کے ماہر ہیں۔ آپ دریا کا پانی روک کر ہی سیلاب لا سکتے ہیں۔ سندھ طاس معاہدہ ہندوستان اور پاکستان کی فطری اور جغرافیائی مجبوری ہے۔”

شیتل ملک

شیتل ملک ایک سیاسی و سماجی کارکن ہیں جو content writing کے ساتھ ترجمہ کے شعبہ سے وابسطہ ہیں۔ سیاسی و معاشی حوالے سے باٸیں بازو و لبرل نظریات رکھتی ہیں۔ نساٸیت پسندی (فیمنزم), ملکی و عالمی سیاست, معاشیات ان کے موضوعات ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button