ورلڈ اپ ڈیٹ

یوکرین میں حاملہ عورتیں جان جانے کی فکر سے کیسے بچ رہی ہیں؟

یوکرین پر روس کے مسلسل حملوں سے وہاں کے میٹرنٹی اسپتالوں کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ اسپتال میں موجود حاملہ خاتون ‘ایلبینا شنکر’ نے روسی حملوں کے بعد یوکرین کی صورتحال کو ’جہنم‘ قرار دیا۔خبر رساں ایجنسی رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کیف میں موجود ایلبینا نے بتایا کہ ’24 فروری کو میری آنکھ روسی حملوں سے صبح 5 بجے کھلی، مجھے خواتین کی چیخوں اور آہ و بکا کی آوازوں نے خوفزدہ کردیا تھا۔اس وقت ایلبینا 32 ہفتوں کی حاملہ ہیں جنہیں کچھ مسائل کا سامنے ہونے کے سبب دو ہفتے قبل کیف کے ایک اسپتال میں داخل کیا گیا تھا اور وہ اب تک وہیں ہیں۔ایلبینا کے مطابق وہ ملک کی موجودہ صورتحال کے سبب اس وقت شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں جس پر قابو پانے کے لیے وہ اسپتال کے بیڈ پر کتاب کا مطالعہ کرنے لگیں۔انہوں نےکہا کہ یہ کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہے، ہم حقیقی جہنم میں رہ رہے ہیں، میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ 21ویں صدی میں ایسا کچھ ہو سکتا ہے۔ایلبینا کا بتانا تھا کہ انہوں نے بہت سی خواتین کو دیکھا جو اس مشکل مرحلے سے گزر رہی تھیں اور انہیں بمباری سے بچتے ہوئے علاج کیلئے زیر زمین سرنگوں میں پہنچایا گیا۔ایک اور خاتون ‘یولا’ نےاسی اسپتال میں بیٹے مارک کو جنم دیا، انہوں نے بمباری کے دوران اسپتال کے عملے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں محفوظ ہیں، دنیا کے بہترین اہلکار، بہترین عملہ یہاں کام کررہا ہے اور ہمیں ان پر بہت فخر ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button