ریاست اور سیاستتجزیہ

اپوزیشن چوہدریوں کو پنجاب دے گی تو گورنر راج لگے گا اور مونس الہی اندر

( رضا ہاشمی ) چوہدری پرویز الہی کے گزشتہ شب نشر ہونے والے انٹرویو میں پی ٹی آئی کی حکومت، عمران خان اور پنجاب میں گزشتہ چار برس کی گورننس کی جو واٹ لگائی اسکی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ اگرچہ ق لیگ پنجاب اور مرکز میں تحریک انصاف کے ہر گناہ میں بطور اتجادی برابر کی شریک تھی ۔ پرویز الہی کا یہ انٹرویو صرف سیاسی جواب نہیں تھا بلکہ ان اقدامات اور ذاتی حملوں کا جواب بھی تھا جو عمران خان کی طرف سے گزشتہ چند روز سے کیئے جا رہے ہیں۔

سب سے بڑی اور دھماکہ خیز خبر یہ ہے کہ وفاقی حکومت اور عمران خان اپنے ہی وفاقی وزیر مونس الٰہی کو سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتے ہیں ۔ سینئر صحافی انصار عباسی کے مطابق حکومت میں سے کوئی طاقت ق لیگ پر د بائو ڈالنے کیلئے کوشش کر رہی ہے یا پھر کوئی اور وجہ ہے جس کی وجہ سے ملک میں انسداد بدعنوانی کیلئے سرگرم سرکردہ ادارے سے مبینہ طور پر کہا گیا تھا کہ پرویز الٰہی کے بیٹے اور وفاقی وزیر مونس الٰہی کو گرفتار کیا جائے۔عمران خان کے لیئے مشہور ہے کہ وہ اپنے جذبات اور خیالات چھپا نہیں سکتے یہی وجہ ہے کہ مونس الہی انکے وزیر بھی تھے لیکن وہ مونس کی طرف دیکھنا تک گوارہ نہیں کرتے اور اب انہوں نے دباو کے بعد بدلہ لینے کی ٹھانی ہے اور مونس الہی کو ہر قیمت پر گرفتار کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس ادارے سے مونس الٰہی کو پکڑنے کیلئے کہا گیا تھا اسی نے گجرات کے چوہدریوں کو یہ معلومات دیدی۔ ایجنسی کو بتایا گیا کہ مونس کیخلاف کوئی زیر التوا کیس نہیں ہے لیکن اس کے باوجود انہیں گرفتار کرنے کیلئے ہدایت جاری کی گئی ہے۔

ایک اور قدم جو وفاقی حکومت اٹھانے جا رہی ہے وہ ہے پنجاب میں گورنر راج قیام کیونکہ اگلے سیٹ اپ میں ٌپنجاب کی وزارت اعلی چوپدریوں کی جھولی میں جاتی دکھائی دیتی ہے ۔ اس لیئے کہ ملک خداد میں سیاسی بے وفائی کا حق تو صرف اور صرف عمران خان کو ہے اس لیئے اگر چوہدری مشکل کے وقت انکا ساتھ نہیں دے رہے تو ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی دو چار غوطے تو دلوائیں گے کے مصداق یعنی گورنر راج لگا دینے سے فوری طور پر تو پرویز الہی کا ایک بار پھر وزیراعلی بننے کا خواب معطل ہو جائے گا ۔

فواد چوہدری جنہیں شاید فردوس عاشق اعوان کی طرح پیپلز پارٹی نے گھاس نہیں ڈالی عمران خان کے کان میں کہہ رہے ہیں کہ پنجاب کے بعد وفاق میں اپوزیشن کی تحریک کو عوامی قوت سے ناکام بنانے کی حکمت عملی اختیار کی جائے۔

ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی سیاسی صورتحال سے نکلنے کے لیے پنجاب میں گورنر راج کا نفاذ کیا تھا۔

پنجاب میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ ان ہاؤس تبدیلی کو روکنے کے لیے حکومت نے خطرناک حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کرلیا، حکومت پنجاب میں گورنر راج لگانے پر غور کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت میں پنجاب میں ایمرجنسی لگانے پر سنجیدگی سے غور جاری ہے۔ ق لیگ اور حکومتی ناراض ارکان کو سبق سکھانے کے لیے حکومت نے سخت جوابی حکمت عملی پر سنجیدگی سے غور شروع کردیا ہے۔

وزیراعظم نے قانونی ماہرین اور سیاسی مشیروں سے پنجاب میں گورنر راج لگانے کے حوالے سے مشاورت شروع کردی۔

قانونی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ صدارتی حکم نامے کے ذریعے پنجاب اسمبلی کو معطل کرکے گورنر راج کا نفاذ کیا جائے۔ گورنر راج کا معاملہ سپریم کورٹ جائے گا، تاہم اس سے حکومت کو تین ماہ سے زائد کا عرصہ مل جائیگا۔

پنجاب کے بعد وفاق میں اپوزیشن کی تحریک کو عوامی قوت سے ناکام بنانے کی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ قانونی و سیاسی مشیروں نے قومی اسمبلی کا اجلاس فوری طور پر طلب نہ کرنے کی رائے دے دی۔ وزیراعظم نے قانونی و سیاسی مشیروں کے اجلاس فوری طلب نہ کرنے کی رائے پر اتفاق کیا۔

ماہرین نے مشورہ دیا کہ پنجاب میں گورنر راج کے بعد متحدہ اپوزیشن کو ڈی چوک پہنچنے نہ دیا جائے۔ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی رائے شماری کے روز ڈی چوک میں بھرپور عوامی قوت کا مظاہر کیا جائے۔ حکومتی ناراض ارکان کو ایوان میں ہی نہ جانے دیا جائے۔

وزیراعظم نے جوابی حکمت عملی پر مزید غور و خوض کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جیسے ہی اتحادی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کریں گے، جوابی حکمت عملی پر عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔

ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی سیاسی صورتحال سے نکلنے کے لیے پنجاب میں گورنر راج کا نفاذ کیا تھا۔ اس سے قبل 90 کی دہائی میں ن لیگ نے بھی سندھ میں گورنر راج نافذ کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button