بازار اور کاروبارصارف اور خریدار

لہسن کی ورائٹی این اے آر سی جی ون پرتحقیقی و معلوماتی مضمون بشکریہ مرزا ایوب بیگ

( مرزا ایوب بیگ) آپ کو شائد یہ بات جان کر حیرت ہو کہ پاکستان میں لہسن کی صرف ایک ہی ورائٹی لہسن گلابی منظور شدہ ہے جو ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے نے 1976 میں منظور کروائی تھی. 1976 کے بعد ہمارے زرعی ادارے لہسن کی کوئی نئی ورائٹی پیش نہ کر سکے. لہسن کے میدان میں پیدا ہونے والے اس خلا کو کاشتکار اپنی مدد آپ کے تحت پر کرتے رہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے کی منظور شدہ ورائٹی کی جگہ کئی ایک غیر منظور شدہ ورائٹیوں نے لے لی ہے. خاص طور پر پنجاب میں لہسن کے زیادہ تر کاشتکار غیر منظور شدہ ورائٹیاں کاشت کررہے ہیں جن میں دیسی سفید اور گولڈن فارمی زیادہ مقبول ہیں.

آپ کو شائد یہ بات جان کر حیرت ہو کہ پاکستان میں لہسن کی صرف ایک ہی ورائٹی لہسن گلابی منظور شدہ ہے جو ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے نے 1976 میں منظور کروائی تھی. 1976 کے بعد ہمارے زرعی ادارے لہسن کی کوئی نئی ورائٹی پیش نہ کر سکے. لہسن کے میدان میں پیدا ہونے والے اس خلا کو کاشتکار اپنی مدد آپ کے تحت پر کرتے رہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے کی منظور شدہ ورائٹی کی جگہ کئی ایک غیر منظور شدہ ورائٹیوں نے لے لی ہے. خاص طور پر پنجاب میں لہسن کے زیادہ تر کاشتکار غیر منظور شدہ ورائٹیاں کاشت کررہے ہیں جن میں دیسی سفید اور گولڈن فارمی زیادہ مقبول ہیں.
مارکیٹ میں دیسی سفید اور گولڈن فارمی کے علاوہ بھی کئی ورائٹیوں کا تذکرہ ملتا ہے جن میں چائنہ لہسن، ایرانی لہسن، اٹالین لہسن وغیرہ قابلِ ذکر ہیں.
لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ 42 سال کے طویل عرصے کے بعد نیشنل ایگری کلچرل ریسرچ انسٹیٹیوٹ سامنے آیا ہے جس نے لہسن کی ایک نئی ورائٹی نارک جی.ون نے نام سے تیار کر لی ہے.
اسلام آباد میں واقع نیشنل ایگری کلچرل ریسرچ انسٹیٹیوٹ (نارک) کی جانب پیش کی گئی اس ورائٹی کی پیداوار پاکستان میں عام کاشت کئے جانے والے لہسن سے دوگنی ہے.
اس انقلابی ورائٹی کا نام نارک جی. ون رکھا گیا ہے اور یہ ورائٹی پنجاب سمیت پورے پاکستان میں کاشت کی جا سکتی ہے. اسلام آباد میں ورائٹی اوالوایشن کمیٹی کے ایک اعلی سطحی اجلاس میں نارک جی.ون کی حتمی منظوری دے دی گئی ہے.

یہ ورائٹی زرعی ماہرین کی 10 سالہ محنت کا نچوڑ ہے اور اس کی پیداواری صلاحیت 235 من فی ایکڑ تک ہے. واضح رہے کہ پنجاب میں زیادہ تر کاشت کئے جانے والے دیسی سفید لہسن کی پیداوار اچھی دیکھ بھال کے ساتھ 60 سے 70 جبکہ گولڈن فارمی لہسن کی پیداوار 90 سے 100 من فی ایکڑ سے اوپر نہیں جاتی۔
لہسن جی 1 پر کام کرنیوالی ٹیم کا تعارف
لہسن نارک جی.ون کی تیاری میں زرعی سائنس دان ڈاکٹر ہمایوں خان کا کلیدی کردار ہے. دیگر سائنس دان جو اس ورائٹی کی تیاری میں ڈاکٹرمحمد ہمایوں خاں (بریڈر) کی ٹیم کا حصے رہے ان کے نام یہ ہیں.

  1. ڈاکٹر تاج نصیب خان (معاون بریڈر)
  2. ڈاکٹر غلام جیلانی (معاون بریڈر)
  3. ڈاکٹر ہدائیت اللہ (معاون بریڈر)
  4. ڈاکٹر نوشیروان (معاون بریڈر)
  5. ڈاکٹر مظہر حسین (معاون بریڈر)

*نارک جی.1 کاشت کر کے فی ایکڑ کتنی پیداوار اور آمدن حاصل کی جا سکتی ہے؟

نیشنل ایگری کلچرل ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے، سن 2014 اور سن 2015 میں لہسن کی 7 اقسام کی پیداواری صلاحیت جانچنے کے لئے تجربہ کیا. جو 7 اقسام کاشت کی گئیں ان میں لہسن نارک جی.ون کے علاوہ لہسن گلابی، لہسن چائنہ، لہسن ایرانی، لہسن اٹالین، لہسن ایم جے.84 اور لہسن جی ٹی ایس.01 نام کی اقسام شامل ہیں.
ان تمام اقسام میں سب سے زیادہ پیداوار 235 من فی ایکڑ کے حساب سے لہسن نارک جی.ون سے حاصل ہوئی. کاشت کی گئی تمام اقسام سے حاصل ہونے والی پیداوار نیچے گراف میں دیکھئے.

جی ون کی زیادہ پیداوار کی کیا وجہ ھے
لہسن نارک جی.ون کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کی اصل وجہ اس کی پوتھیوں کی زیادہ لمبائی اور موٹائی ہے. نیچے دی گئی تصویر دیکھ کر آپ یہ بات بخوبی سمجھ سکتے ہیں.

جیسا کہ ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ پنجاب میں زیادہ تر کاشتکار لہسن سفید اور لہسن فارمی گولڈن کاشت کرتے ہیں. پاکستان میں عام کاشت کئے جانے والے دیسی سفید لہسن کی پیداوار اچھی دیکھ بھال کے ساتھ 60 سے 70 جبکہ گولڈن فارمی لہسن کی پیداوار 90 سے 100 من فی ایکڑ سے تک رہتی ہے.
جبکہ لہسن نارک جی.ون کی پیداوار ایک عام کاشتکار بھی 180 من سے 200 من فی ایکڑ تک حاصل کر سکتا ہے.

لہسن جی 1کی خوبیاں
جی.ون لہسن ایک تو سائز میں بہت بڑا ہے جس کی وجہ سے اسے چھیلنا آسان ہے. دوسری خوبی اس کی یہ ہے کہ یہ دیکھنے میں بھی خوبصورت ہے. تیسرا اس کی خوشبو اور ذائقہ دیسی لہسن جیسا ہی ہے.

بیج کا خرچ
یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ کاشت کے لئے لہسن کی پوتھیاں ہی بیج کے طور پر استعمال ہوتی ہیں.
لہسن کاشت کرنے والے جانتے ہیں کہ دیسی لہسن کاشت کرنے کے لئے ایک ایکڑ میں تقریباََ 8 من بیج لگتا ہے.
اسی طرح فارمی اقسام کاشت کرنے کے لئے فی ایکڑ تقریباََ 14 من بیج کی ضرورت ہوتی ہے.
جبکہ لہسن نارک جی.ون کاشت کرنے کے لئے آپ کو فی ایکڑ 20 من بیج درکار ہے.
آج کل جن لوگوں کے پاس لہسن نارک جی.ون کا بیج ہے وہ اسے 6000ہزار روپے فی کلو سے کم نہیں دے رہے. اس حساب سے 20 من بیچ پر 6000000 لاکھ روپے آپ کی لاگت آئے گی.
اس لئے میں آپ کو یہ مشورہ نہیں دوں گا کہ آپ اتنا مہنگا بیج خریدیں.
بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ پہلے

سال لہسن نارک جی.ون کا بیج بنانے کے لئے صرف ایک کنال پر کاشت کریں. ایک کنال پر کاشت کے لئے آپ کو اڑھائی من بیج درکار ہو گا جس پر محض 450000لاکھ روپے لاگت آئے گی.
نوٹ: بیج کی قیمت یم زیادہ ہو سکتی ہے۔
ایک کنال سے آپ کی پیداوار 20 سے 25 من ہو گی جو ایک ایکڑ پر لہسن نارک جی.ون کاشت کرنے کے لئے کافی ہوگا.
آپ اپنے مالی وسائل اور بیج کی دستیابی کے مطابق ایک کنال سے کم رقبے پر بھی لہسن نارک جی.ون کی کاشت کا آغاز کر سکتے ہیں.
کھاد کا خرچ

لہسن نارک جی.1کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لئے گلے سڑے گوبر کی 8 سے 10 ٹرالیاں کھیت میں ڈالیں.
فی ٹرالی5 ہزار کے حساب سے اس مد میں 50ہزار روپے خرچ آ سکتا ہے.
اس کے علاوہ 120 کلوگرام نائٹروجن، 90 کلوگرام فاسفورس اور 80 گلوگرام پوٹاش ڈالنا ضروری ہے.
نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاش کی بتائی گئی مقدار پوری کرنے کے لئے آپ کو ساڑھے 3 بوری یوریا، 4 بوری ڈے اے پی اور 3 بوری ایس او پی (پوٹاشیم سلفیٹ) ڈال سکتے ہیں. اوپر دی گئی مقدار پوری کرنے کے لئے آپ متبادل کھادیں بھی استعمال کر سکتے ہیں.

3ہزار روپےفی بوری کے حساب سے 3 بوری امونیم سلفیت یا کین گوارہ کی لاگت9 ہزار روپے ہوگی.
10500 روپے فی بوری کے حساب سے 4 بوری ڈی اے پی کا خرچہ 4200ہزار روپے ہو گا.
اسی طرح 11000ہزار فی بوری کے حساب سے 3 بوری ایس او پی کا خرچہ 33000 ہزار روپے ہو گا.
اس طرح کھادوں کی مد میں آپ کا کل خرچ کم و بیش 125000 ہزار روپے ہو گا.
آپ اپنے مالی وسائل کے پیش نظر اسی نسبت سے کھادوں کی مقدار کم بھی کر سکتے ہیں.
کوشش کریں کھادیں ڈالنے سے پہلے زمین کا تجزیہ کروالیں. تجزیہ کروانے سے آپ کی فاسفورس اور پوٹاش کھادوں کی ممکنہ طور پر کافی بچت ہو سکتی ہے.
(نوٹ) کھاد کا تحمینہ آپکے علاقے اور ریٹ کے حساب سے اوپر نیچے ھو سکتا ھے آپ اپنے علاقے سے ریٹ معلوم کرکے بجٹ بنائیں۔ شکریہ

جڑی بوٹیوں، کیڑوں مکوڑوں اور بیماریوں سے بچاؤ کی مد میں اخراجات

لہسن نارک جی.ون پر کیڑوں مکوڑوں اور بیماریوں کا حملہ بہت کم ہوتا ہے. البتہ جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لئے گوڈی یا ہلکی پھلکی سپرے کی ضرورت پڑ سکتی ہے. امید ہے کہ اس مد میں آپ کا خرچ عام حالات میں 20 ہزار سے زیادہ نہیں آئے گا.

کاشت کیسے کرنی ہے؟
1-میدانی علاقوں میں لہسن نارک جی ون کی کاشت کھیلیوں پر بھی کی جاتی ہے۔
کھیلی یا لائن سے لائن کا فاصلہ 10-12انچ اور پودے سے پودے کا فاصلہ بھی 7-8انچ رکھا جاتا ہے ۔
2-پہاڑی علاقوں میں ہموار کھیت پر کاشت کرنے کو زیادہ بہتر سمجھا گیا ہے. لہسن کاشت کرتے ہوئے ایک قطار سے دوسری قطار کا فاصلہ کم از کم 12 انچ (ایک فٹ) ہونا چاہئے. اگر 16 انچ کر دیا جائے تو زیادہ بہتر ہے اس سے پیداوار پر اچھا اثر پڑتا ہے.
اسی طرح ایک بیج سے دوسرے بیج کا فاصلہ 4 انچ ہونا چاہئے. یعنی ایک فٹ میں 3 پوتھیاں۔

لہسن نارک جی.ون کاشت کرنے کا بہترین وقت کونسا ہے؟

لہسن نارک جی.ون کاشت کرنے کا بہترین وقت 20 ستمبر سے 30 ستمبر تک ہے. لیکن آپ اسے اکتوبر کے پہلے ہفتے میں بھی لگا سکتے ہیں. کوشش کریں کہ نارک جی.ون کی کاشت اکتوبر کے پہلے ہفتے سے لیٹ نہ ہو ورنہ پیداوار کم ہونے کا امکان ہے.

لہسن نارک جی.ون کب پھوٹنا شروع کرتا ہے؟

لہسن نارک جی.ون بیج لگانے کے 20 سے 25 دن بعد پھوٹنا شروع کرتا ہے. جبکہ دیسی سفید اورفارمی گولڈن 10 دن بعد ہی پھوٹنے لگ جاتا ہے. لہذا اگر دس دن کے بعد نارک جی.ون کے پھوٹنے کا عمل شروع نہ ہو تو پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں. پوتھی لگانے کے 20 سے 25 دن کے اندر اندر پھوٹ نکلنا شروع ہو جائے گی.

کیا لہسن نارک جی.ون کے پودے پرگنڈھیل نکلتی ہے؟
ہمارے دیسی سفید اورفارمی گولڈن کے پودے پر گنڈھیل بالکل نہیں نکلتی. جبکہ لہسن نارک جی.ون کے پودے پر پیاز کی طرح گنڈھیل نکلتی ہے. گنڈھیل دراصل پودے کے درمیان سے نکلنے والی شاخ ہے جو سیدھا اوپر کو بڑھتی ہے اور جب اپنا قد پورا کر لیتی ہے تو پھر اس پر پھول لگتا ہے جس کے اندر بیج بنتے ہیں.
واضح رہے کہ پیاز کی گنڈھیل میں تو بیج بن جاتا ہے لیکن لہسن نارک جی.ون کی گنڈھیل میں بیج بالکل نہیں بنتا.
نارک جی.ون لہسن کی اس گنڈھیل کو توڑنا بہت ضروری ہے.
عام طور پر یہ گنڈھیل مارچ کے مہینے میں نکلتی ہے. جیسے ہی گنڈھیل نکلے آپ نے اس کو ہاتھ کی انگلیوں کی مدد سے توڑ دینا ہے. یہ باآسانی ٹوٹ جائے گی. واضح رہے کہ اگر آپ نے اس کو نہ توڑا تو یہ 4 سے 5 فٹ تک قد کرجاتی ہے. وہ خوراک جسے پودا لہسن کی گنڈی بنانے کے لئے استعمال کرتا ہے وہ اس گنڈھیل پر ضائع ہو جاتی ہے اور پیداوار پر بہت برا اثر پڑتا ہے.

لہسن نارک جی.ون کس طرح کی زمین میں زیادہ کامیاب ہے؟

لہسن نارک جی.ون کے لئے نرم مَیرا زمین سب سے بہترین ہے لیکن میرا زمین میں بھی اس کی کاشت کامیابی سے کی جا سکتی ہے. پکے وٹ کی زمینوں میں اس کی پیداوار پر برا اثر پڑتا ہے. اسی طرح ایسی زمینیں جن مین پانی زیادہ تیر تک کھڑا رہےلہسن نارک جی.ون کی کاشت کے لئے موزوں نہیں ہیں۔

لہسن نارک جی.ون کو پانی کتنا چاہئیے؟

لہسن نارک جی.ون کو عام طور پر 10 آب پاشیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ موسم اور زمین کی خصوصیت کی بنیاد پر دو تین آب پاشیاں کم یا زیادہ ہو سکتی ہیں۔
ایک بات ذہن میں رہے کہ لہسن نارک جی.ون کو دیسی سفید اورفارمی گولڈن لہسن کی نسبت 2 سے 3 پانی زیادہ لگتے ہیں۔

لہسن نارک جی.ون کی برداشت یا پٹائی کب کرنی چاہئیے؟

نارک جی.ون لہسن کی برداشت عام طور پر 15 مئی کے لگ بھگ کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ دیسی سفید اورفارمی گولڈن کی برداشت وسط اپریل تک ہو جاتی ہے۔ اس طرح لہسن نارک جی.ون دیسی سفید اورفارمی گولڈن سے تقریباََ ایک مہینہ لیٹ برداشت ہوتا ہے۔
موسم اور گرمی کی شدت کی وجہ سے اس کی برداشت دس پندرہ دن آگے پیچھے ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button