تازہ ترینورلڈ اپ ڈیٹ

کینیڈا میں خالصتان کے حق میں ریفرنڈم کا دوسرا مرحلہ جاری

(شہروز شہزاد)خالصتان کی آزادی کیلئے ٹورنٹو اور مسی ساگا سمیت کینیڈا کےمختلف شہروں میں دوسرے مرحلے کا ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا۔

پولنگ سٹیشنز پر سکھوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں، ووٹنگ میں حصہ لینے والوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت خالصتان کو آزاد کرے۔

اس موقع پر عالمی برادری سے بھارت میں سکھوں پر ہونے والے مظالم کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ خالصتان کیلئے18 ستمبر کو پہلےمرحلے میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی تھی۔

کینیڈا کے ضلع اونٹاریو میں خالصتان ریفرنڈم کے سلسلے میں دوسرے مرحلے کی ووٹنگ آج ہو رہی ہے۔

سکھوں کی نمائندہ تنظیم سکھس فار جسٹس خالصتان ریفرنڈم مہم کی قیادت کر رہی ہے جس کا مقصد پنجاب کی بھارت سے علیحدگی اور اسے سکھوں کا علیحدہ وطن قرار دینے کے لیے بین الاقوامی سطح پر حمایت حاصل کرنا ہے۔

سکھس فار جسٹس نے خالصتان ریفرنڈم ووٹنگ کے مرحلہ II کے انعقاد کے اپنے منصوبے کا اعلان کیا ہے، آج ٹورنٹو میں ان لوگوں کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے جو 18 ستمبر 2022 کو ووٹ نہیں دے سکے تھے۔

سکھس فار جسٹس کے رہنما پنوں پہلے ہی 26 جنوری 2023 تک ہندوستان میں خالصتان پر ریفرنڈم کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

انہوں نے سکھ برادری پر زور دیا کہ وہ بھارتی مقبوضہ پنجاب میں سکھوں کا وطن بنانے کے لیے خالصتان ریفرنڈم کی حمایت کریں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان حقیقی جمہوریت ہے تو اسے ریفرنڈم کے نتائج کو قبول کرنا چاہیے۔

بھارت کی بڑی سفارتی ناکامی

بھارت کو کینیڈا میں بڑی سفارتی ناکامی کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب دو ماہ قبل کینیڈا کی حکومت نے خالصتان ریفرنڈم کو سکھوں کا قانونی اور جمہوری حق قرار دیا اور خالصتان کے معاملہ پر کینیڈا میں 18 ستمبر کو ریفنڈم کا پہلا کامیاب مرحلہ سر انجام پایا۔

سکھ فار جسٹس رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ رہنماؤں کا مزيد کہنا تھا کہ بھارت سے آزادی حاصل کرکے رہيں گے اور ايک لاکھ سے زائد سکھ ريفرنڈم ميں ووٹ ڈاليں گے۔ قبل ازیں کینیڈین حکومت کا کہنا تھا کہ خالصتان ریفرنڈم سکھوں کا جائزحق ہے۔

ریفرنڈم کی حمایت میں بڑے پیمانے پر سرگرمیاں پہلے ہی شروع ہو چکی ہیں۔ ایس ایف جے کے کونسل جنرل سنگھ پنن نے کہا ہے کہ ہزاروں کینیڈین سکھ خالصتان ریفرنڈم کی حمایت میں ارداس میں جمع ہوئے۔ ریفرنڈم کی حمایت میں ریلیاں نکالی گئیں ۔

ایک انٹرویو میں خالصتان کونسل کے صدر ڈاکٹر بخشی سنگھ نے کہا کہ ہندوستانی پنجاب کے لوگ سمجھ چکے ہیں کہ ان کے حقوق کا تحفظ صرف آزادی حاصل کرنے کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی رائے کے اظہار کے طور پر کہا کہ وہ اس ریفرنڈم میں بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 75 سال میں ہم نے سیکھا ہے کہ ہندوستان کی ایک بھی حکومت کو سکھوں کے حقوق کی فکر نہیں ہے۔ ڈاکٹر بخشی سنگھ نے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کا قانون ہے کہ نوآبادیاتی قومیں ریفرنڈم کے ذریعے اپنا حق حاصل کر سکتی ہیں۔ انہوں نے خالصتان تحریک کے رہنماؤں کی غیر قانونی حراست پر بھارتی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

کینیڈا میں مقیم سکھوں کی بڑی تعداد ریفرنڈم میں شریک ہوگی۔ واضح رہے ریفرنڈم کی حمایت میں بڑے پیمانے پر سرگرمیاں پہلے ہی شروع ہو چکی ہیں اور ریفرنڈم کی کامیابی کے لیے دعائیہ تقریبات کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔ کنیڈا کے شہر اونٹیریو میں50 ہزار سے زائد سکھوں نے اجتماعی دعا کی۔

دعائیہ تقریب میں شریک افراد نے جھنڈے اٹھا رکھے تھے جن پر خالصتان کے حق میں نعرے درج تھے۔ مرد، خواتین اور بچوں نے نعرے لگائے اور خالصتان کے قیام تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ریفرنڈم کے مقاصد کی حمایت کرنے والی سکھوں کی تنظیم ایس ایف جے نے اس بڑے اجتماع کو سراہا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button