عجیب و غریب

خلا میں طویل عرصہ رہنے سے ہڈیاں کمزور کیوں ہوتی ہیں ؟ وجہ سامنے آ گئی

( مانیٹرنگ ڈیسک )بین الاقوامی سائنسدانوں کی نئی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ خلا بازوں کے طویل مدت تک خلاء میں قیام سے ہڈیاں توقع سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔

سائنسدانوں کی ٹیم نے خلا بازوں کی ہڈیوں کو طویل مدت تک خلا میں قیام سے پہنچنے والے نقصانات کے حوالے سے مطالعہ کیا، جس کے لیے انہوں نے 17 خلاءبازوں کی ہڈیوں کا تجزیہ کیا جن میں 14 مرد اور 3 خواتین شامل تھیں۔

محقیقن نے خلائی سفر سے قبل ان کی ہڈیوں کو اسکین کیا اور کرۂ ارض پر لوٹنے کے بعد ایک بار پھر 6 ماہ اور 1 سال بعد دوبارہ اسکین کیا گیا۔

اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ خلاء بازوں کے طویل مدت تک خلا میں قیام سے ہڈیاں بری طرح متاثر ہوتی ہیں، ہڈیوں کو پہنچنے والے نقصانات میں ناصرف ہڈیوں کی کمزوری شامل ہے بلکہ ہڈیوں کے حجم میں کمی اور کرۂ ارض پر واپس لوٹنے پر ان کی مکمل طور پر بحالی نہ ہونے کا انکشاف بھی کیا ہے۔

بائیومیڈیکل انجینئر اسٹیون بائیڈ (Steven Boyd) کا کہنا ہے کہ خلاء بازوں کے خلاء میں 3 ماہ سے زائد عرصے کے قیام سے ان کی ہڈیاں مسلسل کمزور ہوتی رہتی ہیں اور یہ کمزوری کرۂ ارض پر واپس لوٹنے کے 1 سال بعد تک مسلسل ہوتی رہتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہڈیوں کو مضبوط رہنے کے لیے باقاعدہ وزن کی ضرورت ہوتی ہے، چوں کہ خلاء میں ہڈیوں پر وزن محسوس نہیں ہوتا اس لیے یہ کمزور ہو جاتی ہیں، ہڈیوں کو پہنچنے والے اس نقصان کے ازالے کے لیے مختلف ورزشوں سے مدد لی جاسکتی ہے، جس میں ویٹ لفٹنگ سب سے بہتر ہے۔

سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ تحقیق کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ خلاء بازوں کی ہڈیوں کے حجم میں واقع ہونے والی کمی کرۂ ارض پر واپس لوٹنے تک بحالی نہیں ہوتی۔

ان کا کہنا ہے کہ 9 خلاء بازوں کی ہڈیوں کے حجم میں آنے والی کمی زمین پر لوٹنے کے 1 سال بعد بھی بحال نہیں ہو سکی، زیادہ لمبے عرصے تک بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر رہنے والے افراد کی ہڈیوں کی بحالی کا عمل سب سے زیادہ سست رفتار تھا۔

محققین نے بتایا ہے کہ جتنا زیادہ وقت خلاء میں گزاریں گے، ہڈیوں کے حجم میں اتنی زیادہ کمی آئے گی، اتنی ہی زیادہ خلاء باز کی ہڈیاں ختم ہو جائیں گی۔

اسٹیون بائیڈ نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ مریخ کے مستقبل کے مجوزہ مشنز کے لیے ایک بڑا خدشہ ہے کیونکہ اس کے دوران خلاء بازوں کو کئی برس زمین سے باہر رہنا ہو گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button