ریاست اور سیاست

پنجاب کا ضمنی انتخاب ، مسلم لیگ ن نے کیا کھویا کیا پایا

( لاہور 42 نیوز دوست ) پنجاب کا ضمنی الیکشن اختتام پذیر ھوا
بہت سارے تجزیہ نگاروں اور ماھرین کے حساب سے کل تک ن لیگ زیادہ سیٹیں جیت رھی تھی مگر آج کے رزلٹس نے بڑے بڑوں کے تجزیئے غلط ثابت کردیئے۔ اور جہاں سہیل وڑائچ اور مرتضی سولنگی جیسوں کے اندازے غلط ھو جائیں وھاں میرے تیرے جیسے عام کارکن کے اندازوں کا غلط ھو جانا کوئی اچھنبے کی بات نہی۔
آیئے اس ضمنی الیکشن کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا ایک نظر میں جائزہ لیتے ہیں۔

اگرچہ "ن لیگ” کا پنجاب یعنی اپنے سیاسی گڑھ سے شکست کھا جانا بذات خود پارٹی کے لیئے بہت بڑا سیٹ بیک اور ایک الارمنگ سایئن ھے، جس کی سب سے بڑی وجہ بنی ن لیگ کا لوٹوں کو ٹکٹ دینا۔ جو کہ ن لیگ کی کمٹمنٹ تھی کہ عدم اعتماد میں یہ سب لوگ عمران خان کے خلاف ھمارا ساتھ دیں اور ھم ضمنی الیکشن میں ان لوٹوں کو ٹکٹ دیں گے۔ مگر نچلی سطح پر پارٹی کے نظریاتی ورکرز اور ووٹرز نے ان لوٹوں کو قبول نہیں کیا اور بہت سارا ورکر ووٹ دینے ھی نہی نکلا۔ دوسری وجہ یہ بھی بنی کہ بہت سارے پرانے لوگ لوٹوں کے آنے کے بعد ان حلقوں سے ن لیگ کو چھوڑ کر چلے گیئے۔

تیسری بڑی وجہ حالیہ دنوں میں ن لیگ کے مشکل معاشی فیصلے اور انکے نتیجے میں ھونے والی مہنگائی بھی "ن لیگ” کا ووٹ کم کرنے کی ایک وجہ بنی، اگرچہ اس میں کوئی شک نہی "ن لیگ” نے ریاست کو معاشی دیوالیہ سے بچانے کے لیئے سیاست قربان کی مگر جب قربان کر چکے ہیں تو پھر سیاست میں نقصان پر واویلا بھی نہی کرنا چاھیئے۔
ن لیگ کی شکست کے ساتھ دوسرا بڑا نقصان یہ ھوا کہ وقتی طور پر کمزور ھوتی ھوئی تحریک انصاف کو دوبارہ توانائی میسر آئی اور تحریک انصاف اب مزید جوش کے ساتھ سازش اور سازشی بیانیئے کا نظریہ اپنائے گی اور جلد عام انتخابات پر مزید پریشر بڑھائے گی۔
۔
مگر ان منفی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ اس شکست کے کچھ مثبت پہلو بھی ہیں جنکو قطعئی نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے۔

سب سے بڑی مثبت چیز یہ کہ تحریک انصاف جو مسلسل الیکشن کمیشن اور اسٹیبلشمنٹ پر جانبدار ھونے اور "ن لیگ” کا ساتھ دینے کا الزام لگا رھی تھی، خود تحریک انصاف کے اس بیانیئے سے ھوا نکل گئی کہ نا تو الیکشن کمیشن جانبدار ھے اور نا ھی اسٹیبلشمنٹ "ن لیگ” کی پشت پناہی کر رھی ھے، اب الیکشن کمیشن بھی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنانے میں پریشر سے آزاد ھوگا۔ دوسری بات یہ کہ "ن لیگ” کا ان لوٹوں کو ٹکٹ دینے کا وعدہ بھی پورا ہوگیا اور اب اگلی مرتبہ ھر حلقے سے "ن لیگ” اپنے امیدواروں کو ٹکٹ دینے میں آزاد ھوگی۔ اور ان لوٹوں کو دوبارہ ٹکٹ دینے جیسی پابندی سے آزاد ھوگی اور امید ھے کہ اگلے جنرل الیکشن میں بہتر اور مخلص لوگوں کو ٹکٹ دیئے جائیں گے۔

ان سب مثبت اور منفی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی دھیان رھے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ اب صرف نمبر گیم کی حد تک محدود نہیں رھی، اب یہ نمبر گیم سے نکل کر جوڑ توڑ کی سیاست پر منتقل ہوچکی ھے اور جوڑ توڑ میں گجرات کے چوھدری اور حمزہ شہباز میں سے کوئی بھی کسی سے کم نہیں۔ جیسے کہ آپ دیکھ چکے ہیں کہ کل ن لیگ کے ایک ایم پی اے نے پی ٹی آئی کی حمایت کرتے ھوئے استعفیٰ دے دیا، اسی طرح پی ٹی آئی کے لوگوں میں سے بھی کچھ بندے توڑنے کی کوشش حمزہ بھی کرے گا اور چونکہ وزیر اعلیٰ کا اگلا انتخاب Run of Vote سے ھونا ھے اور کل ایوان کے نصف سے زائد ووٹ لینے کی بجائے حمزہ شہباز نے ڈالے گیئے ووٹوں میں برتری حاصل کرنی ھے۔ اس لیئے عین ممکن ھے کہ تحریک انصاف کے 5 سے 10 ارکان غیر حاضر ھو جائیں اور ڈالے گیئے ووٹوں میں سے حمزہ شہباز کو برتری حاصل ھو جائے۔

یعنی اگر مختصر کہیں تو #پکچرابھیباقیھے ۔


۔


۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button