تازہ ترینعجیب و غریبموسمورلڈ اپ ڈیٹ

سال کا دوسرا اور آخری چاند گرین 25 اکتوبر کو ہوگا

( مائرہ ارجمند ) ماہر فلکیات ڈاکٹر جاوید اقبال نے بتایا ہے کہ رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر بروز اتوار کو ہوگا۔

ماہر فلکیات ڈاکٹر جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ جزوی سورج گرہن پاکستان سمیت یورپ ،ایشیا، شمال مشرقی افریقا کے کئی ممالک میں دیکھا جائے گا۔

پاکستان میں جزوی طور پر سورج کو گرہن لگے گا اوراس کا آغاز مقامی وقت کے مطابق دوپہر 3 بج کر 57 منٹ پر ہوگا۔ پاکستان میں سورج گرہن کا اختتام 5:56 منٹ پر ہوگا۔

انھوں نے بتایا کہ سورج کو جزوی گرہن 5بج کر 1منٹ پر لگے گا اور اس دوران سورج ک ایک حصہ گہرا ہوجائے گا۔

جزوی اور رواں سال کے آخری سورج گرہن کا مجموعی دورانیہ 2 گھنٹے ہے۔رواں سال کا پہلا سورج گرہن یکم مئی کو ہوا تھا۔

سورج گرہن سے جڑی تواہم پرستیاں اور حقائق

دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے لیے سورج گرہن کسی نہ کسی خطرے کی علامت ہے، جیسے کہ دنیا کا خاتمہ یا کسی خوفناک ہلچل کا انتباہ۔

ہندو مذہب کے اساطیر میں اس کا تعلق امرت منتھن اور راہو کیتو نامی عفریتوں کی کہانی سے ہے اور اس کے ساتھ کئی توہمات وابستہ ہیں۔ گرہن نے ہمیشہ انسان کو جتنا حیران کیا ہے، اتنا ہی خوفزدہ بھی کیا ہے۔

درحقیقت جب تک انسان کے پاس سورج گرہن کی وجوہات کے بارے میں صحیح معلومات نہیں تھیں، اس وقت تک اس نے بے وقت سورج کے گرد چھائے ہوئے اس سیاہ سائے کے بارے میں بہت سے تخیلات، بہت سی کہانیاں بنا لیں۔

17ویں صدی کے یونانی شاعر آرکیکلس نے کہا تھا کہ عین دوپہر میں اندھیرا چھا جاتا ہے تو اس تجربے کے بعد اب وہ کسی چیز پر حیران نہیں ہوتے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ آج جب ہم گرہن کی سائنسی وجوہات جانتے ہیں تو بھی گرہن سے متعلق بہت سی کہانیاں اور توہمات برقرار ہیں۔

کیلیفورنیا کی گریفتھ آبزرویٹری کے ڈائریکٹر ایڈون کرپ کہتے ہیں: ‘سترہویں صدی کے اواخر تک بھی زیادہ تر لوگ نہیں جانتے تھے کہ گرہن کیوں ہوتا ہے یا ستارے کیوں ٹوٹتے ہیں۔ اگرچہ ماہرین فلکیات آٹھویں صدی سے ان کی سائنسی وجوہات سے واقف تھے۔’

کرپ کا کہنا ہے کہ ‘معلومات کی کمی کی وجہ مواصلات اور تعلیم کی کمی تھی۔ معلومات کو پھیلانا مشکل تھا جس کی وجہ سے توہمات پروان چڑھتے رہے۔’

وہ کہتے ہیں: ‘قدیم زمانے میں انسان کے روزمرہ کے معمولات فطرت کے قوانین کے مطابق چلتے تھے اور ان قوانین میں کوئی بھی تبدیلی انسان کو بے چین کرنے کے لیے کافی تھی۔’

سورج گرہن انسانی ارتقا اور عقائد

روشنی اور زندگی کا سرچشمہ کہے جانے والے سورج کا چھپنا لوگوں کو خوفزدہ کرتا تھا اور اسی وجہ سے اس سے متعلق مختلف کہانیاں مشہور ہوئیں۔ سب سے زیادہ مشہور کہانی یہ تھی کہ یہ اس وقت ہوتا ہے جب ایک شیطان سورج کو کھا جاتا ہے۔

جبکہ مغربی ایشیا میں یہ عقیدہ تھا کہ سورج گرہن کے دوران ایک ڈریگن یا اژدہا سورج کو نگلنے کی کوشش کرتا ہے اس لیے اس اژدھے کو بھگانے کے لیے ڈھول نگاڑے بجائے جاتے تھے۔

اس کے ساتھ ہی چین میں یہ عقیدہ بھی تھا کہ جو سورج کو نگلنے کی کوشش کرتا ہے وہ درحقیقت بہشت کا ایک کتا ہے۔ پیرو کے باشندوں کے مطابق، یہ ایک بڑا پوما ہے جو سورج کو نگلنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ وائکنگ کا عقیدہ تھا کہ آسمانی بھیڑیوں کا ایک جوڑا گرہن کے دوران سورج پر حملہ آور ہوتا ہے۔

یونیورسٹی آف دی ویسٹرن کیپ میں ماہر فلکیات اور پروفیسر جیریٹا ہالبروک کہتی ہیں: ‘گرہن کے بارے میں مختلف تہذیبوں کا نظریہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہاں کی فطرت کتنی فراخ یا نرم ہے۔ جہاں زندگی مشکل ہے، وہیں ظالم اور خوفناک دیوی دیوتا بھی ہیں اور اسی وجہ سے وہاں گرہن سے متعلق خوفناک کہانیاں بھی ہیں۔ اور جہاں زندگی آسان ہے، کھانے پینے کی وافر مقدار ہے، خدا یا سپر پاورز کے ساتھ بہت پیار بھرا رشتہ ہے وہاں ان کے اساطیر بھی اسی طرح کے ہیں۔’

عہد وسطیٰ کے یورپ میں طاعون اور جنگوں سے عوام بہت زیادہ پریشان رہا کرتی تھی۔ اس لیے سورج گرہن یا چاند گرہن نے انھیں بائبل میں درج قیامت کی تفصیل کی یاد دلاتا تھا۔ پروفیسر کرس فرنچ کہتے ہیں کہ ‘یہ سمجھنا بہت آسان ہے کہ لوگ گرہن کو قیامت سے کیوں جوڑتے تھے۔’

بائبل میں مذکور ہے کہ قیامت کے دن سورج بالکل سیاہ ہو جائے گا اور چاند کا رنگ سرخ ہو جائے گا۔

سورج گرہن اور چاند گرہن میں عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے۔ پھر لوگوں کی زندگی بھی مختصر تھی اور ایسا فلکیاتی واقعہ ان کی زندگی میں صرف آدھ بار ہی رونما ہو سکتا تھا اس لیے یہ باتیں انھیں خوفزدہ کردیا کرتی تھیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button