تعلیم و صحت

سروسز ہسپتال میدان جنگ بن گیا، پولیس کا خواتین پر تشدد

(ماہرہ ارجمند) ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت سے مریض جاں بحق، لواحقین کا سروسز ہسپتال کے سامنے شدید احتجاج، پولیس کی بھاری نفری کا آپریشن۔ خواتین پر تشدد، ہاتھا پائی جبکہ متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ 30 سالہ حامدکو گزشتہ رات طبیعت خراب ہونےپر ہسپتال لائے، حامد میڈیکل ایمرجنسی میں زیرعلاج تھا جبکہ ڈاکٹرز  کی جانب سے علاج میں غفلت برتی گئی۔ مظاہرین کے احتجاج کے باعث جیل روڈ پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوگئی جس پر ایس پی ٹریفک آصف صدیق موقع پر پہنچ گئے۔ کینٹ سے آنے والی ٹریفک کو کینال پر ڈائیورٹ کروا دیا گیا اور شادمان چوک سے بھی ڈائیورشن لگا دی گئی ہے۔

سمن آباد کے 30 سالہ حامد کو ڈاکٹر کی جانب سے مبینہ طور پرغلط انجکشن لگا کر ہلاکت اور پھر لواحقین کے احتجاج پر پولیس نے تشدد کیا، جس پر خواتین سمیت 5 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اس واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے۔ 

دوسری جانب سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر نے دو رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایت پر واقعہ کی تحقیقات کے لئے کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ کمیٹی سپیشل سیکرٹری ڈاکٹر آصف طفیل اور ڈپٹی سیکرٹری علی اکبر بھنڈر پر مشتمل ہے۔ دو رکنی کمیٹی فوری سروسز ہسپتال روانہ ہوگئی ہے جبکہ انکوائری کمیٹی واقعہ کی 24 گھنٹوں میں سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کو تحقیقاتی رپورٹ پیش کرے گی۔ 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button